دہلی 6نومبر (ایس او نیوز)ممبئی ہائی کورٹ کے سابق جج بی جی کولسے پاٹل نے آر ایس ایس پرسنگین الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ہندوستان میں بدامنی اور سیاسی خلفشار پھیلانے کے لئے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے ہوئے اس سے 24کروڑ روپے وصول کیے ہیں۔
جسٹس کولسے پاٹل نے دہلی میں منعقدہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی عظیم الشان ریالی سے خطاب کرتے ہوئے یہ الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ آریہ بھٹ برہمن وادیوں کی سوچ اور نظریات انتہائی زہریلے ہیں۔ ان برہمن وادیوں نے ہزاروں سال سے یہاں کے عوام کو نہ چین کی نیند سونے دیا اور نہ ہی چین سے رہنے کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے ایک زمانے سے ہندوستان میں انارکی اور انتشار پھیلانے کے لئے غیر ملکیوں کے ساتھ ہاتھ ملانے اور سازشیں رچنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔انہوں نے پولیس پر بھی سیدھانشانہ تانتے ہوئے کہا کہ جو پولیس ہم جیسے لوگوں کے خلاف کام کررہی ہے وہ ان برہمن وادیوں کی غلام ہے۔
مسٹر کولسے پاٹل نے براہ راست آر ایس ایس کے پرمکھ موہن بھاگوت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک میں انتشار پھیلانے کی نیت سے ہی آئی ایس آئی سے 24کروڑ وصول کیے ہیں۔مسٹر کولسے نے حاضرین سے کہا کہ ان برہمن وادیوں کا کام ہی ہندوؤں کے اندر آپسی خلفشار اور پھوٹ پیدا کرناہے، کیونکہ یہ خود کو ہندو نہیں سمجھتے۔اس لیے سب سے پہلے ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے۔ اور وہ صرف برہمن وادی ہے۔اس کے لئے تمام ہم خیال ہندوؤں، دلتوں اور پسماندہ قوموں کو متحد ہونا چاہیے۔یہ ملک ہمارا اپنا ہے۔ ہم اس کے مالک ہیں ۔ ہم سب ایک ہوکر ان آریہ بھٹ برہمن وادیوں کو غلام بناکر رہیں گے۔